class 12th Urdu question answer Chapter 3: بعض پرانے لفظوں کی نئی تحقیق Baaz Purane Lafzon Ki Nai Tahqeeq

class 12th urdu chapter 3 question answer

Baaz Purane Lafzon Ki Nai Tahqeeq Question Answer

بعض پرانے لفظوں کی نئی تحقیق

آپ بتائیے

 

سوال۔ بھوک توڑنے کی اصطلاح کیا ہے؟

جواب۔ توڑنے کی اصطلاح ناشتہ ہے ۔

سوال۔ سید سلیمان ندوی کتنی زبانوں کے ماہر تھے ؟

جواب۔ یہ سب تو لے سید سلیمان ندوی انگریزی عربی اور اردو کے ماہر تھے ۔

 سوال۔ عربی میں ناشتہ کو کیا کہتے ہیں ؟

جواب۔ عربی میں ناشتہ کو فطور کہتے ہیں ۔

سوال۔ فطور کے معنی بتائیے ۔

جواب۔ عربی میں ناشتہ کو فطور کہتے ہیں ۔

سوال۔ لفظ نہار کن دو زبانوں میں استعمال ہوتا ہے ؟

جواب ۔ لفظ نہار اردو اور فارسی دو زمانوں میں استعمال ہوتی ہے ۔

سوال۔ قلعی کس زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی کیا ہیں؟

جواب ۔ لفظ قلعی اردو زبان کا لفظ ہے اس کے معنی سفیدی اور صفائی کے ہیں۔

سوال۔ سرخی سے کیا مراد ہے ؟

جواب ۔ سرخی سے مراد ہے عنوان ۔

سوال۔ احدی اور احدی کے فرق کو واضح کیجیے ۔

جواب ۔ احدی کے معنی سست اور کاہل کے ہیں جب کہ احدی کا معنی اکیلا ہوتا ہے ۔

سوال۔ قلعی کھولنا اور قلعی پھیرنا کے معنی میں کیا فرق ہے ؟

جواب ۔ کسی داغ دھبے یا کسی کے عیب کو اگر چھپایا جائے تو وہ اس پر قلعی پھیرنا ہوا اور اگر اس داغ دھبے اور عیب کو ظاہر کر کے سب کو دکھایا جائے تو وہ قلعی کھولنا ہوا ۔

سوال۔ قلعی کو عربی اور فارسی میں کیا کہتے ہیں ؟

جواب ۔ قلعی عربی میں قلعی اور فارسی میں رانگے کو قلعی کہا جاتا ہے ۔

سوال۔ پورب اور پچھم کی زبانوں سے کون سی زبانیں مصنف مراد لیتا ہے ؟

جواب ۔ مصنف نے پورب کی زبان سے مراد عربی کو لیا ہے اور پچھم کی زبان سے مراد انگریزی کو لیا ہے۔

مختصر گفتگو

class 12th urdu chapter 3 question answer

سوال۔ پیٹ کے لیے کھانوں میں سب سے زیادہ ضروری کھانا کون سا ہے؟  اس کے متعلق سید سلیمان ندوی کے خیالات واضح کیجیے۔ 

جواب ۔ سید سلیمان ندوی کے خیالات کے مطابق پیٹ کے لیے کھانوں میں سب سے زیادہ ضروری کھانا کون سا ہے اس کا جواب لوگ اپنے اپنے تجربے اور عادت کے مطابق الگ الگ دے سکتے ہیں لیکن سید سلیمان ندوی کہتے ہیں کہ میرا جو خیال ہے وہی اکثروں کا ہوگا یعنی یہ کہ کھانوں میں سب سے زیادہ ضروری کھانا ناشتہ ہے صبح سویرے اٹھ کر منہ میں کچھ پڑ جانے سے سارے دن کے لیے ڈھارس ہو جاتی ہے۔

سوال۔ قلعی  سے کیا مراد ہے اسے عربی اور ہندوستانی زبانوں میں کیسے استعمال کرتے ہیں ؟

جواب ۔ سید سلیمان ندوی کے مطابق قلعی اردو زبان کا لفظ ہے جس کے معنی سفیدی اور صفائی کے ہیں برتنوں پر قلعی کی جاتی ہے اور مکانوں پر بھی قلعی پھیری جاتی ہے یہ لفظ عربی کا نہیں ہے لیکن پھر بھی عربی نعتوں میں یہ لفظ ملتا ہے اور فارسی میں رانگے کو قلعی کہتے ہیں مگر رانگے کو قلعی کیوں کہتے ہیں لسان العرب کا بیان ہے کہ قلع ایک کان کا نام ہے جس سے رانگے کی بہترین قسم نکلتی تھی اس لیے اس کی طرف نسبت کر کے اچھے رانگے کو قلعی کہتے ہیں اور چونکہ اسی رانگے سے تانبے کے برتنوں میں سفیدی پھیری جاتی ہے اس لیے قلعی کرنا اس کو کہنے لگے پھر چونے سے بھی اگر مکانوں پر سفیدی پھیری گئی تو اس کو بھی قلعی پھیرنا کہہ دیا گیا ۔

سوال۔ نئے اور پرانے نقطہ نگاہ سے لفظ سرخی کے معنی کا جائزہ لیجیے ۔

جواب ۔ سرخی ہماری زبان کا ایک لفظ ہے جس کا معنی عنوان ہے پہلے زمانے میں قلمی کتابوں میں باب اور عنوان کو امتیاز کے لیے سرخی سے لکھا کرتے تھے لیکن اب ہمارے زمانے میں جب چھاپا کھانہ ایجاد ہوا تو خود باپ کو یا مضمون کے عنوان کو سرخی کہنے لگے اب چاہے اپ اس کو سیاہی سے ہی کیوں نہ لکھیں ۔

baaj purane lafzon ki nai tahkeek question answer

سوال۔ بعض پرانے لفظوں کی نئی تحقیق سید سلیمان ندوی کی کس کتاب سے ماخوذ ہیں؟ 

جواب ۔ اردو ادب کی دنیا میں سید سلیمان ندوی ایک بڑی مقبول و معروف حیثیت رکھتے ہیں نصر لکھنے میں ان کا ایک خاص طرز بیان ہے خشک موضوع کو بھی وہ اپنے اسلوب خاص سے دلچسپ بنا دیتے ہیں بعض پرانے لفظوں کی نئی تحقیق میں ان لفظوں کے اصل معنی کی وضاحت کی گئی ہے جو روزمرہ کی زبان میں استعمال ہوتے ہیں۔

 بعض پرانے لفظوں کی نئی تحقیق سید سلیمان ندوی کی مشہور کتاب نقوش سلیمانی سے محفوظ ہے اس علمی مضمون میں ان الفاظ کے معنی کو کئی زبانوں کی مثال سے واضح کیا گیا ہے زبان کے علم میں یہ مضمون بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔

سوال۔ سید سلیمان ندوی کے استاد گرامی کا نام بتائیے ۔

جواب ۔ سید سلیمان ندوی نے اپنے گاؤں اور اس پاس کے بستیوں کے علماء سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سید سلیمان ندوی اگے کی تعلیم کے لیے انہوں نے پھلواری شریف اور پھر مدرسہ امدادیہ دربھنگا میں داخلہ لیا ۔

اعلی تعلیم کی خواہش میں 1901 میں وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء پہنچے جہاں شبلی نعمانی جیسی شخصیت سے استفادہ کرنے کا موقع ملا وہیں انہوں نے مولانا فاروق صاحب جڑیا کوٹی سے بھی تعلیم حاصل کی تھی وقت کے ساتھ سید سلیمان ندوی کا دینی اور درسی تعلیم کے ساتھ ساتھ ادب سے بھی تعلق قائم ہوتا چلا گیا ۔

سوال۔ ہماری زبان میں شوربہ دار گوشت کو کیا کہتے ہیں ؟

جواب ۔ ہماری زبان میں شوربہ دار گوشت کونہاری کہا جاتا ہے نہاری سے مراد وہ چیز جو صبح نہار منہ کھائی جائے لکھنو اور دلی میں نہاری ایک خاص چیز ہو جاتی ہے جو بازاروں میں پکی پکائی بہت چٹپٹی ملتی ہے ۔

سوال۔ سید سلیمان ندوی کی جائے پیدائش دسنا بہار کے کس ضلع میں ہے ؟

جواب ۔ سید سلیمان ندوی کی جائے پیدائش دسنا بہار کے نالندہ ضلع میں ہے دسنا صوبہ بہار کے نارندہ ضلع میں واقع ایک مردم خیز بستی ہے جہاں 22 نومبر 1884 کو سید سلیمان ندوی پیدا ہوئے تھے ان کے والد کا نام حکیم سید ابو الحسن تھا ۔

سوال۔ سید سلیمان ندوی کے پڑھنے لکھنے کا خاص میدان کیا تھا ؟

جواب ۔عربی ادب اسلامیات تاریخ سوانح ادبیات اور ترتیب و تدوین سید سلیمان ندوی کے خاص پڑھنے لکھنے کے میدان ہیں اردو زبان و ادب سے متعلق ان کے مضامین خاص طور پر نقوش سلیمانی ہماری زبان کا نام مضامین سلیمان اور مقالات سلیمان میں شامل ہیں ۔

تفصیلی گفتگو

class 12th urdu kahkashan book chapter 3 bihar board

سوال۔ ہمارے کھانوں میں ناشتے کی کیا اہمیت ہے ؟

جواب ۔ انسان ویسے تو دن میں کئی مرتبہ کھانے کھاتا ہے لیکن اگر یہ سوال کیا جائے کہ پیٹ کے لیے کھانوں میں سب سے زیادہ ضروری کھانا کون سا ہے اس سوال کا جواب لوگ اپنے اپنے تجربے اور عادت کے مطابق الگ الگ دے سکتے ہیں لیکن سید سلیمان ندوی کہتے ہیں کہ میرا جو خیال ہے وہی اکثروں کا خیال ہوگا یعنی کہ کھانوں میں سب سے زیادہ ضروری کھانا ناشتہ ہے صبح سویرے اٹھ کر منہ میں کچھ پڑ جانا یا کچھ کھا لینا پورے دن کے لیے اطمینان کا کام کرتا ہے ۔

صبح سویرے کے ناشتے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ رات بھر تو انسان سویا رہتا ہے لیکن صبح جگنے کے بعد جسم کو جو تقویت چاہیے وہ اسے ناشتے سے ہی حاصل ہوتی ہے ۔

baaj purane lafzon ki nai tahkeek question answer 12th urdu

سوال۔ لفظ نہار منہ فارسی اور ہندوستانی زبان میں کیسے ایک دوسرے سے متعلق ہے وضاحت کیجیے ۔

جواب ۔ چونکہ فارسی زبان ہندوستانی زبانوں سے ایسے گھل مل گیا ہے گویا یہ ہندوستانی زبان ہی ہے لفظ نہار یا نہار منہ  اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں استعمال ہوتا ہے جس نے صبح سے کچھ نہ کھایا ہو اس کے لیے لفظ نہار یا نہار منہ استعمال ہوتا ہے اس کی اصلیت ناہار ہے نا نفی کے لیے ہے اور ہار کے معنی غذا کے ہیں اس طرح ناہار کا مطلب نہیں کھایا ہوا اب اس سے ناہاری یا نہاری تیارہوی جو صبح کو نہار منہ کھائی جائے لکھنو اور دلی کے لوگوں کے لیے یہ ایک بہت خاص چیز ہو گئی جو بازاروں میں پکی پکائی بہت ہی چٹپٹی ملا کرتی ہے ۔

سوال۔ مختلف زبانوں کی روشنی میں لفظ قلعی کا جائزہ لیجیے۔

جواب ۔ ہماری زبان میں ایک لفظ قلعی ہے جس کے معنی سفیدی اور صفائی کے ہیں برتنوں پر قلعی کی جاتی ہے اور مکانوں پر قلعی پھیری جاتی ہے ۔

 یہ لفظ حالانکہ پرانی عربی کا نہیں ہے لیکن پھر بھی عربی نعتوں میں ملا کرتا ہے فارسی میں قلعی رانگے کو کہتے ہیں مگر رانگے کو قلعی کیوں کہتے ہیں تو لسان العرب کا بیان ہے کہ قلع ایک کان کا نام ہے جس سے رانگے کی بہترین قسم نکلتی تھی اس لیے اس کی نسبت کر کے اچھے رانگے کو قلعی کہتے ہیں اور چونکہ اسی رانگے سے تانبے کے برتنوں میں سفیدی پھیری جاتی ہے اس لیے اس کو قلعی کرنا کہنے لگے پھر چونے سے بھی اگر مکانوں پر سفیدی پھیری گئی تو اس کو بھی قلعی پھرنا کہہ دیا گیا ہماری زبان میں ان استعمالوں سے یہ معنی پیدا ہوئے کہ کسی داغ دھبے یا کسی عیب کو اگر چھپایا جائے تو وہ اس پر قلعی پھیرنا ہوا اور اگر اس داغ دھبے اور عیب کو ظاہر کر کے سب کو دکھایا جائے تو وہ قلعی کھولنا ہوا ۔

سوال۔ بعض پرانے لفظوں کی نئی تحقیق کے فوائد اپنی زبان میں لکھیے ۔

جواب ۔ بعض پرانے لفظوں کی نئی تحقیق سید سلیمان ندوی کی مشہور کتاب نقوش سلیمانی سے ماخوذ ہیں اس علمی مضمون میں الفاظ کے معنی کو کئی زبانوں کی مثال سے واضح کیا گیا ہے زبان کے علم میں یہ مضمون بڑی اہمیت رکھتا ہے بعض پرانے لفظوں کی نئی تحقیق میں ان لفظوں کے اصل معنی کی وضاحت کی گئی ہے جو روزمرہ کی زبان میں بول چال میں استعمال ہوا کرتے ہیں جیسے سرخی نہار منہ احدی قلعی اور اشیائے خوردنی میں قورمہ ناشتہ قلیہ وغیرہ ان لفظوں کے لیے سماج کے مختلف مگر دلچسپ رویوں اور سلوک کا پتہ اس مضمون سے بخوبی چل جاتا ہے ۔

سوال۔ درج ذیل الفاظ سے دو دو محاورے بنائیے ۔

جواب ۔ انکھ ۔ انکھوں کا تارا ہونا انکھ دکھانا ۔

پانی ۔ پانی پانی ہونا پانی سر سے اوپر ہونا ۔

 قلعی۔ قلعی کھولنا قلعی پھیرنا۔

 جان۔ جان کھانا جان پر بن انا ۔

 چھاتی۔ چھاتی پیٹنا چھاتی پر سوار ہونا ۔

سوال۔ صفت کی تعریف بیان کیجیے اور اس کے قسموں کے نام بتائیے ۔

جواب ۔ صفت وہ اسم ہے جس سے کسی شخص جگہ یا چیز کی اچھائی برائی خاصیت مقدار یا حالت کا پتہ چلے جیسے لمبا اچھا نیک چالاک بدصورت ۔

صفت کی پانچ قسمیں ہوتی ہیں ۔

  • صفت ذاتی 
  • صفت نسبتی 
  • صفت مقداری 
  • صفت عددی 
  • صفت تفصیلی

Next Chapter 4 – انشائیہ کیا ہے

error: Content is protected !!
Scroll to Top